بلوچستان میں کینسر سے لڑتے ہوئے مریض
تحریر: رخشندہ تاج بلوچ کینسر سے متاثرہ افراد کے لئے اکثر ہم ایسے الفاظ کا چناﺅ کرتے ہیں جس سے وہ ہمیت پکڑے اور موت سے پہلے موت کے منہ میں نہ جائے۔ لیکن ہم اِن الفاظ کا چناﺅ کرکے اپنا حق ادا کرتے ہیں اور کینسر زدہ شخص صر ف مسکرا کر رہ جاتا ہے ، اُس کی مسراہٹ کو دیکھ کر ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے الفاظ کارگر ثابت ہوگئے ہیں لیکن اُس بیمار شخص کو پتا ہوتا ہے کہ وہ روز بہ روز زندگی کی خاتمے کی طرف جارہا ہے ۔ ہوسکتا ہے کچھ افرادکے لیے یہ الفاظ واقع سود مند ثابت ہوں لیکن کچھ کے لیے سوائے لفاظی کے اور کچھ نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ اندر سے جذباتی اور صدمے کار شکار ہوجاتے ہیں ، اور جب اُن کے اپنے خاندان اور دوست اُن کے اِس کیفیت کو سمجھ نہیں پاتے ہیں تو اُس کی زندگی مزید مشکل ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ وہ الفاظ نہیں مدد چاہتے ہیں،علاج چاہتے ہیں۔ اِس درد سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہیں ، زندگی چاہتے ہیں۔ اپنے لئے بہتر نگہداشت چاہتے ہیں ، اپنا علاج چاہتے ہیں جو ریاست کی زمہ داری ہے ۔ لیکن یہ زمہ داری کو ادا کرنے میں تاخیر برتی جارہی ہے ۔ حمل ظفر کی وہ مسکراہٹ ج...